ہم میں سے ہر انسان کے جسم میں دل ہے لیکن دلِ مشتاق نہیں ہے۔ ہم میں سے ہر انسان کے پاس آنکھیں ہیں لیکن منظر شناس آنکھیں نہیں۔ ہمارا دل، دلِ مشتاق ہو سکتا تھا ہماری آنکھیں منظر شناس بن سکتی تھیں مگر ہم نے ان بے مثال نعمتوں کو جلدبازی کی نظر کر دیا۔ ہم دل کی موجودگی میں بے دل ہیں اور آنکھ کے ہوتے ہوئے بے بصر۔ خدا کی ایک ہی دفعہ دی ہوئی زندگی کو مل جل کر جس طرح ہم نے ان گنت خواہشات کے آرے میں کاٹا ہے اس کا انتقام ایک دن فطرت ہم سے لے گی اور لے رہی ہے۔ اچھے ہیں وہ لوگ، اچھے ہیں وہ شاعر، اچھے ہیں احمد مشتاق جو اس دوڑ میں شامل نہ ہوئے۔ خود کو الگ کر لیا اور اپنی ذات کو فطرت کے سپرد کر دیا۔ اپنی آنکھوں کو منظروں کی نذر کر دیا اور اب آسمان، زمین، درخت، ستارے، بادل، بارش، رنگ، پرندے، محبوب، محب، دل، آنکھیں الگ الگ نہیں بلکہ اکائی میں ڈھل چکی ہیں اور احمد مشتاق کا قلم ان کئی تصویریں بنا بنا کر زندگی جو خیر کی داستان ہے، کے حسن میں اضافہ کر رہا ہے۔ شاعر کا کام کائنات میں موجود حُسن کی تسخیر کے علاوہ نہیں ہوتا۔ معیشت، سیاست، صحافت، ٹیکنالوجی کی بہتری کے لیے الگ الگ شعبے قائم ہیں اور ہمیں ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کرنا چاہیے۔ احمد مشتاق نے اپنے دماغ سے زیادہ دل کی مدد سے دنیا کو سمجھا اور اب ان کا دل اور دنیا ایک ہو گئے ہیں۔ آنکھیں جسم بن گئیں ہیں اور خواب وسیلہ ظفر: محمد سلیم الرحمٰن نے احمد مشتاق کو کچھ پھول پیش کیے ہیں آپ بھی پڑھیں:

نیند کا جو بھی در کھلا دیکھا
اوٹ میں خواب ہی چھپا دیکھا
شور سنتے تھے کوچہ دل کا
بارے وہ بھی اُجاڑ جا دیکھا
یاد آئی کوئی پرانی بھوک
پھر سے ہنستا ہوا توا دیکھا
اپنا مشتاق کب زمانہ تھا
کر لیا حال تو نے کیا، دیکھا
مطلع سے ہی احمد مشتاق کے حسی سروکاروں کا پتا چل رہا ہے۔ نظر آ رہا ہے کہ اس شاعر نے آنکھیں محض سونے اور جاگنے کی ذمہ داری کے لیے نہیں حاصل کیں بلکہ ان میں خواب کا بیج لگایا اور اس درخت پر کھلنے والے پھولوں، بیٹھنے والے پرندوں کو سنا۔ ان آوازوں سے اپنے قلب کی تالیف کی۔ اور اپنی شاعری میں حسن پیدا کیا۔ جس طرح خواب کسی کی مرضی کے تابع نہیں ہوتے اور بڑی سے بڑی آمریت بھی خواب دیکھنے پر پابندی نہیں لگا سکتی اسی طرح احمد مشتاق نے اپنی شاعری کواپنی اطاعت میں نہیں دیا۔ مروج شاعرانہ انداز نہیں اختیار کیا کہ کان میں قلم رکھ کر خیال کے تعاقب میں چھانٹا پکڑ کر آنکنے لگ جاؤ۔ شاعری کے دربار میں یہ بدعت ہے اور صالحین ایسا نہیں کرتے یہاں آنکھیں ہیں، خواب ہیں، نیند کا عمل ہے۔ اس تثلیث میں جتنا سکون ہے اسی سے احمد مشتاق کی غزل کا آموختہ اٹھایا گیا ہے۔
شور سنتے تھے کوچہ دل کا
بارے وہ بھی اجاڑ جا دیکھا
یہاں اس شعر میں آتش کا فیض سامنے کی بات ہے مگر اس کا مضمون بھی احمد مشتاق کی غزل کی تفہیم سے علاقہ رکھتا ہے۔ اُداس اور اجاڑ رہنے کی ذمہ داری خدا نے ہر دل پر نہیں ڈالی۔ نہ ہر دل یہ بار امانت اٹھا سکتا ہے۔ اس کے لیے خدا نے شاعروں کے دل چنے ہیں اور انھوں نے اس نعمت کی ناشکری نہیں کی۔ اپنے سینے سے لگایا اور اداسی سے اپنے دل کو آباد کیا۔ آتش کے ہاں قطرہ خون اور یہاں اجاڑ جا۔ شور کے ساتھ اجاڑ کا تضاد بڑا عقلی لگ رہا ہے۔ آتش نے دل کو قطرہ خوں کہہ کر شور کی کیفیت کی اصل بیان کی ہے۔ مگر یہاں دل کے محل میں شور کے اُلٹ اُجاڑ پن بھلا بھلا لگ رہا ہے۔ یہاں بیان غم کا ہے۔ اور غم دل کے زندہ ہونے کی علامت بھی ہوتا ہے۔ اس شعر کی مدد سے احمد مشتاق کے شاعرانہ علاقہ کا احاطہ عمدگی سے ہو رہا ہے۔ پتا چل رہا ہے کہ اس دل پر غم کی حکم رانی ہے اور شاعر نے سلطنت کے اس حصے میں قیام کو ترجیحی بنیادوں پر رکھا ہے۔
یاد آئی کوئی پرانی بھوک
پھر سے ہنستا ہوا توا دیکھا
اس شعر میں دوست کو ایک ایسی خوشی سے متعارف کرایا جا رہا ہے جس کا تعلق گزرے ہوئے زمانے کے ساتھ ہے۔ اس میں بھوک کا لفظ حقیقی معانی میں استعمال نہیں ہوا ۔ اس بھوک کا تعلق ایک عمل کے ساتھ ہے اور وہ عمل ہے کہ جب روٹیاں بنانے کے بعد توا اُتارا جاتا تھا آگ پر سے تو اُس کو اُلٹا رکھا جاتا تھا توے کے پیندے پر دھواں کاجل بنا دیتا تھا۔ اور اس کاجل میں سے چنگاریاں نکل رہی ہوتی تھیں۔ اُن چنگاریوں کے ساتھ ایک خوش خیالی وابستہ تھی اور کہا جاتا تھا کہ توا ہنس رہا ہے۔ وہ اس طمانیت کا اظہار کر رہا ہے کہ میں بھوک مٹاتا ہوں۔ اب کہاں توے پر روٹی بننے کا مشاہدہ کرنے والے لوگ۔ وہ زمانے لا گئے جب توے پر ماں یا بہن یا کوئی فرد روٹیاں بنا رہا ہے اور خاندان گرد بیٹھا ہے۔ محمد سلیم الرحمٰن نے احمد مشتاق کو اپنی اس خوشی میں شامل کیا ہے جو اسے حاصل تھی۔ دوستی نام ہی اس وقت کو یاد کرنے کا ہے جب ہم دمی حاصل تھی۔ اب نیا دور ہے۔ پرانی باتوں کو گلے سے لگا کر رکھنے والے کم ہیں۔ محمد سلیم الرحمٰن نے اپنے دوست کو اپنی یاد سے خوش کرنے کی سعی کی ہے۔
اپنا مشتاق کب زمانہ تھا
کر لیا حال تو نے کیا، دیکھا
اب دو دوستوں کی آپس کی بات ہے۔ جیسے ایک دوست دوسرے کو کہہ رہا ہے۔ یہاں اس دنیا میں شاعروں کی نہیں تاجروں کی ضرورت ہے۔ مشتاق چومکھا لفظ ہے یہاں۔ ایک احمد مشتاق دوسرا یہ کہ زمانہ خود اپنا نہیں تیرا میرا کیسے ہو گیا۔ لوگوں کو خود سے محبت نہیں۔ جو اپنا مشتاق نہیں وہ دوسرے کا نہیں ہو سکتا۔ تو اے میرے دوست ہر وقت اس کی فکر میں گھل کر اپنے حال سے بے خبر نہ رہا کرو۔ یہ لوگ بات نہیں سنتے۔ یہ اپنے ٹیلی ویژنوں پر انسانیت کے دشمنوں کو ہر وقت ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں۔ یہ عام آدمی کی فلاح سے متعلق بات کرنے والوں کو سُولی پر چڑھا دیتے ہیں۔یہاں وہ صاحب اعتبار ہے جو ٹی وی پر کہتا ہے کہ میری لندن تو کیا پاکستان میں کوئی جائیداد نہیں اور پھر آدھے پاکستان جتنی جائیداد نکل آتی ہے۔ اور یہ لوگ اسے وزیراعظم بنانے کی تیاری میں ہیں۔ دوست کڑھا نہ کرو۔ تمھارا حال مجھے عزیز ہے کیوں کہ تم انسان کی فلاح کا خواب دیکھتے ہو۔



