اس نظم میں رات کا بیان ہے۔ رات جس میں ہم اپنی زندگی کا آدھا حصہ بتاتے ہیں۔ آدھی زندگی دن، آدھی زندگی رات۔ مگر کیا وجہ ہے کہ ہمارے احساس کی دنیا میں دن کا مشاہدہ اور اس کا بیان زیادہ نظر آتا ہے۔ رات کے اسرار کا بھید کم۔ شاید ہم رات میں دل سے چراغ کا کام نہیں لیتے۔ قرآنِ مجید میں بے شمار جگہوں پر رات کو بیان کیا گیا۔ خدا نے بھی اپنا پیغام انسانوں تک پہنچانے میں رات کے وقت کا انتخاب کیا۔ رات میں فرشتے آسمان چھوڑ کر زمین پر آتے ہیں۔ رات میں سکوت ہے۔ رات میں پھلوں میں رَس پڑتا ہے۔ رات میں ہی خدا نے اپنے محبوب پیغمبر حضرت محمدؐ کو آسمان پر بلایا اور اپنی نشانیاں دکھانے کا اہتمام کیا۔ قرآن مجید میں قدر کی رات کے بیان میں انسانیت کے لیے بھلائی کا پیغام ہے۔
کلّم کلّی رات پرائی۔
دل دی اک نکّر وچ فیروی
مدّھم جہیا چانن کیویں؟
ایہہ گل کدی وی سمجھ نہ آئی۔
پُٹّھے سِدھّے ، اُچّے نیویں
کمّاں وچ اَساں عمر گوائی۔
ایہہ نہ ویکھیا رات ہنیری وچ کیہ رمزاں،
کیہہ وکھاون دے لئی دل دی
نکّر وچ لَپ بھر رُشنائی۔
2013ء اس جگہ پہلی چار سطروں میں ایک سوال ہے جس کا تعلق شاعر کی اپنی ذات سے ہے۔ وہ اس روشنی کی کھوج میں ہے جو جانے کہاں سے چلی اور اس کے دل میں آ کر بیٹھ گئی۔ اس نے رات کے اکلاپے میں شاعر کے وجود کے اندر مدھم روشنی کا اہتمام کر دیا ہے۔ روشنی کے ساتھ مدھم کی صفت کا بیان منظر کو پُراسرار بنا رہا ہے۔ شاعر نے روشنی کو مدھم اس لیے بھی بتایا ہے کہ زیادتی چاہے روشنی کی ہی کیوں نہ ہو بھلی نہیں لگتی۔ پھر میزباں دل ہے۔ دل نازک چیز ہے۔ اس میں شور اچھا نہیں لگتا۔ شاعر رات میں دل میں موجود روشنی کی رمز کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس مدھم روشنی کی کتنی ہی تعبیریں کی جا سکتی ہیں۔ ماضی کی یاد اس روشنی تک پہنچنے کی کلید ہے۔ کوئی روشن چہرہ، کوئی خیر کا کام، کوئی آسودگی کا لمحہ، کوئی بچپن کا دوست، ماں، باپ، بہن بھائی کی نظر کرم، کسی بچے کی ہنسی، کوئی کھیل، کوئی کامیابی، کسی بیمار کو شفا ملنے کا واقعہ، بہن کا بھائی کے لیے ایثار غرض ماضی کی جتنی مہربانیاں ہیں اُن سے دل میں چراغ کا سا سماں ہے۔ اس چراغ کی روشنی میں زندگی ایندھن کا کام کر رہی ہے۔ اگلی پانچ سطروں میں شاعر رات کے اسرار میں اپنی بیتی کو بیان کر رہا ہے۔ اس زندگی نامے میں بڑا سبق ہے۔ وہ اس رمز کا متلاشی ہے جس کو پانے کے بعد ہمارے سب کے دل نُور سے بھر سکتے ہیں۔ شاعر کے اندر یہ سوال شکلیں بدل بدل کر اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا ہے۔ میں کون ہوں۔ کہاں سے آیا ہوں۔ کہاں جانا ہے۔ اپنے وجود میں خیر کا بیج کیسے بویا جا سکتا ہے۔ زندگی گزر گئی۔ حاصل جمع ملال، کرنا کچھ اور تھا کیا کچھ اور۔ رات سے سبق نہیں سیکھا۔ رات میرے دل میں تنویر کی طرح تھی لیکن میں نے دن کی نذر زندگی کر دی۔ رمز شناس دل کے لیے رات اور دن باقی لوگوں کی طرح نہیں ہوتے۔ اندھیرےاور اجالے کا تصور مختلف ہوتا ہے۔ دن کا شور اس کے لیے اندھیرا ہوتا ہے اور رات کا اندھیرا اس کے لیے روشنی۔ وہ رات میں دل کا دیا جلاتا ہے اور اس کی شمع میں زندگی کرتا ہے۔ یادوں کا ہجوم سامنے ہوتا ہے اور اس میں وہ اپنی ہستی میں موجود روشن ریزے اکٹھے کرتا ہے۔ رات اس کے لیے تسلی بن جاتی ہے۔ یہ پوری نظم نو سطروں پر مشتمل ہے جو ہمیں متوازن طریقے سے خود احتسابی کا درس دیتی نظر آتی ہے۔ دن کی ہاؤ ھو پر رات کے احسان کو قربان کیوں کرتے ہو۔ رات میں اپنی زندگی میں چاندنی کا اہتمام کیوں نہیں کرتے۔ دنیا میں اتنی کیا جلدی پڑی ہوئی ہے۔ تم ایک لمحہ سکوت اختیار کرنے کے بعد اپنے آپ کو رات کے سپرد کر دو۔ سُود اور زیاں کا تخمینہ لگاتے لگاتے زندگی کی شام کر لی۔ فطرت کی مہربانیوں سے لطف اندوز نہ ہوئے۔ ٹھہرو، سوچو۔ آخر ایسی کون سی جلدی ہے۔ دیکھو یہ رات ہے اور اس میں دل ہے۔ چھوٹا سا دیا۔ جس کی ضو میں امن ہے، آشتی ہے۔ یہ دل کی روشنی اپنے دامن میں بھر لو۔ یہ روشنی تمھیں دعوت دے رہی ہے کہ اپنے آپ سے اپنا رابطہ زیادہ کرو۔ دل کی مانو۔ دل عشق کا گھر ہے اور عشق کے لیے زمین سے آسمان تک کا سفر معنی نہیں رکھتا۔ یہ نظم فطرت کی طرف سے ایک سندیسہ ہے۔ ایسا پیغام جو ہمیں شور میں گم ہونے سے بچاتا ہے اور خیر کی ایسی دنیا میں لے جاتا ہے جو اپنے آپ سے سوال کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ سوال جس کے تسلسل میں سب کی بھلائی ہے۔



