جس طرح زندگی گزارنے کے بے شمار طریقے ہیں اسی طرح شاعری کرنے کے بے حساب اسلوب ہیں۔ نہ زندگی گزارنے کے طریقوں کا کوئی ایک رجسٹر مرتب کیا جا سکتا ہے اور نہ شعر لکھنے کے لیے کوئی ایک ہدایت نامہ۔ یہ انسان اپنے بھیتر میں کائنات اصغر لیے پھرتا ہے۔ زندگی ہر آن بدلتی ہے۔ پل سے پل نہیں ملتا۔ ایسے میں انسانوں کو اپنی شرطوں جینے پر مجبور کرنا (آسمانی کتابوں کو نکال کر) دانائی سے خارج بات ہے۔ جو لوگ یہ رمز پا جاتے ہیں ان کی زندگی اور اگر وہ شاعر ہیں تو ان کی شاعری بہتی ہوا کی سی ہو جاتی ہے۔ ایک اُڑتی پتنگ جو آسمانوں کے رازوں کی رازداں ہوتی ہے۔ مگر یہ ہمت کم لوگوں میں ہوتی ہے جو اپنے برتے زندگی کی بازی لگاتے ہیں۔ اپنی سنتے ہیں اور خود کو ہی سناتے ہیں۔ ظفر اقبال بھی اسی قبیل کے شاعر ہیں جنھوں نے ساری زندگی اپنے آپ سے سیکھا اور اب یہ مختلف طرز شاعری راسخ حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ آسودگی کی مانند جو لمحہ بھر کے لیے بھی نصیب ہو جائے تو بڑی بات ہوتی ہے اور اس شاعر کے پاس سکون کا لمحہ نہیں بلکہ کئی گھڑیاں ہیں۔ ظفر اقبال کی شاعری کو اگر تاش کے پتوں کی مدد سے سمجھا جائے تو اس میں دُکی بھی موجود ہے اور اکا بھی۔ اس درمیان ہندسوں کو خوب ادل بدل کر اس شاعر نے کاغذ پر حسن پیدا کیا ہے۔ لاحاصلی کی آرتی اُتاری ہے۔ تاش کو خوب پھینٹ کر بازی کھیلی ہے۔ باطن میں یہ ڈر ہو گا کہ فکس کھیل اچھا نہیں ہوتا۔ ظفر اقبال کے زندگی بھر کے لکھے جوکھے کے لیے ان کے ہم دم دیرینہ محمد سلیم الرحمٰن نے غزل کے چار شعروں میں اس طرح بیان کیا ہے:

جو بھی اُفتادہ تھا سیدھا ہوا اُلٹا ہو کر
مصرع ترکو بصد شوق کیا زیر و زبر
تھی تغزل کی سبھی عشوہ گری زیرِ نقاب
جا ہی پہنچی ہے کسی ڈھب سے وہاں تک بھی نظر
اُس نے کھولا ہے ورق جب سے زبانِ نَو کا
کچھ پڑا تو ہے سیاقِ رُخ جاناں پہ اثر
ساحل شعر پہ چلتی ہے تغیر کی ہوا
جس میں یلغارِ فسانہ و فسوں موجِ ظفر
مطلع ظفر اقبالی غزل کی کلید ہے۔ یہاں دونوں مصرعوں میں ظفر اقبال کے فنی حربوں کو بیان کیا گیا ہے۔ تضاد کا سہارا بھی جان دار ہے۔ اُلٹا، سیدھا، زیر، زبر۔شاعری لفظوں کا کھیل ہی تو ہے۔ عدم کی طرف جاتا ہوا راستہ۔ یہاں افتادہ کا لفظ بنیادی لفظ ہے۔ افتادہ کا معنی ہے بنجر، گرا پڑا۔ بنجر زمین کو آباد کرنے کا سلیقہ ہر کسان کے پاس نہیں ہوتا۔ مگر جو زیرک ہوتے ہیں وہ اونے پونے خرید کر اپنی کمال ذہانت سے زمین کو زرخیز بنا لیتے ہیں۔ ظفر اقبال نے بھی یہی کیا۔ اردو شاعری کے اسالیب کو جانا اور پھر اپنے لیے آباد کرنے کے لیے وہ علاقہ چنا جو عرصے سے ہل جوتنے کا تقاضا کر رہا تھا۔ یعنی جینے کے، شعر کہنے کے نروئے طریقوں کا متلاشی تھا۔ اللہ جانے یہ بات ان کے من میں خود سے آ گئی یا حضرت سلیم احمد کی غزلوں کا فیض ہے جو ساٹھ کی دہائی میں ادب لطیف میں چھپتی تھیں۔ جن میں سے ایک کا مطلع تھا:
مزاج یار ہے ۔۔۔۔۔ ٹھنڈا
اور اس میں ٹھنڈا، کنڈا اس طرح کے قافیے تھے۔ لیکن ظفر اقبال اس راستے پر چل پڑے اور آج راستے کے ساتھ ساتھ منزل بھی اپنے نام کر لی۔ عطا کی بات ہے۔
فن میں اجارہ تو ہوتا نہیں۔ اور اگر کوئی یہاں بھی ایسے سوچتا ہے تو اپنا وقت ضائع کر رہا ہے تو ظفر اقبال نے شعر کی زمین میں نرالا بیج بویا۔ جگہیں بدلیں۔ کہیں کہیں ہریالی ملی اور کہیں کہیں بنجر پن۔ خیر تھکے نہیں۔ مصرع سازی کے شوق میں طاقت اور ناتوانی کے ذائقوں سے آشنائی حاصل کرتے کرتے عمر کی نقدی خرچ کر دی۔
تھی تغزل کی سبھی عشوہ گری زیر نقاب
جا ہی پہنچی ہے کسی ڈھب سے وہاں تک بھی نظر
نقاب کا اپنا اسرار ہوتا ہے۔ غزل کے بنیادی شعور کے بغیر اس فن میں عشوہ گری دکھانا ٹامک ٹوئیاں مارنے کے برابر ہے۔ آب رواں اور گلافتاب کی شاعری اور پھر رطب و یابس کے بعد کی شاعری غزل کی دونوں شکلوں بلکہ بے شمار شکلوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ ظفر اقبال دایاں بھی جانتا ہے بایاں بھی دائیں ہاتھ سے بھی کھیلتا ہے اور بائیں ہاتھ سے بھی۔ ایسے میں ہر گیند بازکی سمجھ میں آسانی سے نہیں آتا۔ گیند باز یہاں نقاد مراد ہے۔ ذرا توجہ دیں تو اس شاعری میں کہیں زیریں سطح پر غزل کی روایت اور اسالیب اپنی موجودگی کا احساس دلاتے نظر آتے ہیں۔
اس نے کھولا ہے ورق جب سے زبانِ نَو کا
کچھ پڑا تو ہے سیاق رخ جاناں پہ اثر
شاعری کے لیے محمد سلیم الرحمٰن نے کتنی اچھی ترکیب استعمال کی۔ سیاق رخِ جاناں۔ یہ غزل بھی ہو سکتی ہے محبوب کا چہرہ بھی ہو سکتا ہے۔ غرض وسیع معنوں میں یہاں آیا ہے۔ نئی زبان میں بننے اور بگڑنے کے برابر مواقع ہوتے ہیں۔ کہیں بن گیا۔ کہیں بگڑ گیا۔ اثر دونوں صورتوں میں پڑتا ہے۔ اثبات میں بھی اور نفی میں بھی۔ مگر زبانِ نو کی طرف ملتفت ہونا حوصلہ مندی کی بات ہے۔ یہ جگرا ہر کسی کا نہیں ہوتا۔ اور محمد سلیم الرحمٰن نے اس حسیت کو عمدگی سے پرکھا ہے۔
ساحل شعر پہ چلتی ہے تغیر کی ہوا
جس میں یلغار فسانہ و فسوں موجِ طغر
ساحل شعر بھی کیسا ساحل ہے جس میں ہزار سال کی غزل کی روایت ٹھاٹھیں مار رہی ہے اگر اس میں تغیر کا شمہ بھی آ جائے تو بہت ہے مگر محمد سلیم الرحمٰن کے اس دوست نے ایسی ہوا چلائی ہے جو یلغار کی مانند ہے۔ اس یلغار میں افسانہ بھی ہے اور فسوں بھی۔ یہ لہر خس و خاشاک بھی رکھتی ہے اور صدف ریزے بھی۔ کلیات کی غالباً چھ جلدوں کی کمک ساتھ میں ہے۔ غلیل سے لے کر ٹینک تک ہتھیار موجود ہے۔ ایسے سامانِ حرب کےحامل لشکروں کو پسپا کم ہی ہوتے دیکھا ہے۔ محمد سلیم الرحمٰن اور ریاض احمد کا یہ دوست اقلیم شعر کا فاتح ہے۔



