محمد سلیم الرحمٰن کی غزل منیر نیازی کے لیے

کچھ ناموں میں پتا نہیں ایسا کیا اسرار ہوتا ہے کہ جب وہ سماعت میں آتے ہیں تو انسان کے دل میں دماغ میں ایک دَم روشنی سے بھر جاتی ہے۔ اس شخصیت سے وابستہ  یادوں کا یوم  نشور ذہن کی سمتیں بدل دیتا ہے۔ آدمی جیسے ایک دم کسی کے حصار میں آ گیا ہو۔ پتا نہیں اس خیال کی تحلیل نفسی کی جائے تو اس کے کیا نتائج آئیں۔ البتہ ان ناموں میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ ایک لمحے میں اپنے حصے کی زندگی کے غم اور خوشی، آس نراس، ہجر وصال غرض بہت کچھ دوسرے کی زندگی کا حصہ بنا دیتے ہیں۔ اس بات کا امکان یقیناً ہر آدمی کے ساتھ ممکن نہیں اور ایسا ہر ایک کے ساتھ ہوتا بھی نہیں اور ہو بھی نہیں سکتا لیکن اپنے ساتھ معاملہ کچھ ایسا ہی ہے۔ منیر نیازی کا نام آتے ہی خوشی اور غم کی ملی جلی کیفیت ذہن پر دستک دیتی ہے اور دل منیر کی طرف چلنا شروع ہو جاتا ہے۔ زبان پر “آمد باراں کا سناٹا” کی قرات رواں ہو جاتی ہے اور “جس نے میرے دل کو درد دیا۔ اس شکل کو میں نے بھلایا نہیں” یا  زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا۔ دنیا میں خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا۔ وجود میں یہ کلام سنسنی سی پیدا کر دیتا ہے۔ ذرا وقت گزرے تو بے چین بہت پھر ناگھبرائے ہوئے رہنا کی ایسی درد کی ٹیس محسوس ہوتی ہے جسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔ “نظمیں” میں منیر نیازی کے لیے محمد سلیم الرحمٰن کی غزل دیکھی تو ایسا لگا جیسے بہار کی ہوا میں کوئی کسی کو یاد کر رہا ہو:

بس اک خیال کہ ہے کون جس کو دیکھا تھا

کسی وصال میں لرزاں جو آ سمایا تھا

مزاج یار کی تہ تک پہنچ سکا نہ کوئی

ستم میں جس کے بھلائی کا شائبہ سا تھا

سواد موسم گُل میں یہ سبز راہ سفر

قدم قدم پہ تری خلوتوں کا دھوکا تھا

ہو بام و در یا دریچہ یا کوئی راہ گزر

شب ملال میں ماہ منیر تنہا تھا

مطلع میں اُس مرکز مائل  طاقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کے طواف میں کسی نے اپنی زندگی بتا دی۔ منیر نیازی نے اپنے خیال کی چاپ کو اس دھیان سے محسوس کیا کہ اور کچھ سننے کی طلب دل سے جاتی رہی۔ زندگی کا اگر کوئی دوسرا نام ہوتا تو یاد ہوتا یا پھر خیال ہوتا۔ بعض گھڑیاں ایسی ہوتی ہیں کہ کوئی خیال میں ایسے آن بیٹھتا ہے کہ باقی دنیا کے بٹھانے کے لیے جگہ کم پڑ جاتی ہے۔ مطلع میں خواب کی سی کیفیت ہے۔ آنکھ کے آگے سایا سا لہرا رہا ہے جن کی شبیہہ کو مکمل کرتے کرتے منیر نیازی کی زندگی مکمل ہو گئی۔ اور خیال ہی ایسا وسیلہ ہے جو آن کے لیے ہی سہی لمحے کو گرفت میں لا سکتا ہے۔ ناصر کاظمی کہتے تھے مجھے شاعری کچھ اس لیے بھی اچھی لگتی ہے کہ اس میں کسی سطح پر ہی سہی گیا وقت واپس آ سکتا ہے۔ مطلع میں شاعر نے خیال کی دُھن میں زندگی گزاری ہے اور کسی کی یاد کے چرخے پر جو سُوت کاتا ہے اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

مزاج یار کی تہ تک پہنچ سکا نہ کوئی

ستم میں جس کے بھلائی کا شائبہ سا تھا

ہم دیکھ رہے ہیں کہ مطلع میں بھی اور دوسرے شعر میں بھی کسی بات میں حتمیت نہیں۔ کون جس کو دیکھا تھا۔ بھلائی کا شائبہ سا تھا۔ یہی تو شاعری ہے۔ ریاضی کا سوال ہوتا تو دو ٹوک اچھا لگتا ہے۔ یہاں منیر نیازی کا سراپا ہے جو امکان کی الگ دنیا لیے ہوئے تھے۔ پہلے مصرع میں مزاج یار کی تہہ تک نہ پہنچنے کی نارسائی ہے مگر ساتھ میں خراج بھی ہے۔ مزاج یار کی تہہ تک اگر کوئی پہنچ جائے تو وہ تو خود یار بن بیٹھے گا۔  لہٰذا یار کا مزاج یار جانتا ہے اور دوست کے ستم میں بھی مروت چھپی ہوتی ہے۔ بس ذرا پہچاننے کی ضرورتی ہوتی ہے۔ منیر نیازی جیسے انسان دنیا کے لیے ورق ناخواندہ کی طرح ہوتے ہیں۔ مگر کیا ہے کہ لوگوں کو کاروبار زرگری سے فرصت ملے تو انھیں بھی دیکھیں۔ گرمی رفتار کی ماری دنیا کے پاس اب وقت ہی نہیں کہ دوسرے کی دنیا میں جھانک سکے۔ نئی دنیا کے نئے دکھ ہیں۔ ایسے میں منیر نیازی جیسے لوگ جن کے عمل میں شر نہیں ہوتا لوگوں کے لیے اجنبی ہوتے ہیں۔

سواد موسم گل میں یہ سبز راہ سفر

قدم قدم پہ تری خلوتوں کا دھوکا تھا

اس غزل کا پورا مزاج منیر نیازی غزل سے ملتا ہے۔ دوست دوست کا چہرہ ہوتا ہے۔ محمد سلیم الرحمٰن نے اپنے رنگ کو تج کر منیر کا رنگ اختیار کیا ہے اور رنگ کی یہ کیفیت سارے دوستوں کے لیے لکھی ہوئی غزلوں میں ہے۔ جس کا جیسا اسلوب اس کے لیے وہی لہجہ۔ اس غزل کا علم الکلام بھی منیری ہے۔ خیال، وصال، لرزاں، سواد موسم گل، سبز راہ سفر، خلوتوں، بام و در دریچہ، شب ملال غرض منیر کے رنگوں والے بستے سے محمد سلیم الرحمٰن نے رنگ چُنے ہیں جن سے یہ غزل منور ہو گئی ہے۔ پاکیزگی روشنی ہی تو ہوتی ہے۔ یہاں جس منظر کو احساس کا حصہ بنایاگیا ہے اس میں سواد موسم گل ہے اور اس میں کوئی ہریالی میں سے گزر رہا ہے اور قدم قدم پر کسی کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔ پھولوں کا موسم ہر طرف ہریاول اور یاد کی پھانس۔ دل میں کئی کہانیوں کی یاد دلا دیتی ہے۔ اپنے سے جدا ہونا آسان نہیں ہوتا۔ دَم دَم یاد آتی ہے اور یاد کی چرخی خیال کا حصہ بن جاتی ہے۔ ایک تلاش میں  زندگی گزر جاتی ہے چہروں میں ایک چہرے کی کمی کھائے رکھتی ہے۔

ہو بام و در یا دریچہ یا کوئی راہ گزر

شب ملال میں ماہ منیر تنہا تھا

چاند کا کام روشنی کرنا ہوتا ہے۔ اس جگہ شب ملال کی ترکیب حزنیہ ہے۔ حُزن بھی ہے اور ماہ منیر کی ترکیب اس حُزن کو خوشی میں بھی بدل رہی ہے۔ دروازے، چھتیں، صحن، راستہ غرض کوئی جگہ ہو یاد کے مسافروں کے لیے ڈھنڈار بن ہی ہوتا ہے اور اس میں اپنے وجود سے روشنی بکھیرتے رہتے ہیں۔ منیر کے کلام میں روشنی ہے۔ یہ کلام مادیت پر روحانیت کی برتری کی نوید ہے۔