بیسویں صدی کی اردو غزل کا تذکرہ جس شاعر کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے وہ ناصر کاظمی ہیں۔ وہ سراپا شاعر تھے۔ وہ اُن میں سے تھے جن کو خیال میں لائیں تو زندگی اور شاعری کے الفاظ ایک معنی دینا شروع کر دیتے ہیں۔ شخص اور شاعر کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔ لاہور کے رتجگوں اور راستوں سے اتنا پیار کیا کہ رات اور راستہ ناصر کاظمی کی چاپ کو پہچاننے لگا۔ ڈرائیور، تانگہ بان، پنواڑی، بیرے سب ناصر کاظمی کے مزاج دان بن گئے۔ یہ اتفاقات سب کے ساتھ نہیں ہوتے۔ لہجے میں ایسا کچھ تھا کہ ناصر کے ہم مجلس بننے کی طلب انھیں کھینچے لیے آئی۔ “برگ نے”، “دیوان”، “پہلی بارش”، نشاط خواب”، سُر کی چھایا”مضامین کا مجموعہ “خشک چشمے کے کنارے”، “ناصر کی ڈائری” جنھیں القا، ریڈنگ، لاہور نے چھاپ دیا ہے۔ اور ان کا کلیات بھی دستیاب ہے اور الگ الگ مجموعے بھی۔ وہ قاری جس نے شاعری کا مطالعہ نیا نیا شروع کیا ہو اُس کے لیے یہ کتابیں ارمغان کا درجہ رکھتی ہیں۔ اس شاعری کا لہجہ دھیما ہے مگر کاٹ زیادہ۔ کاغذ پر تصویر سی بن جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ منظر جو گزر چکا تھا اسے زندہ کیا جا رہا ہو۔ سادہ، آسان زبان مگر واردات کا بیان ایسا کہ جو ثابت نہیں رہنے دیتا۔ اندر اندر یہ شاعری راستہ بناتی ہے۔ ناصر خدا کی اس دنیا میں ایسا دل لے کر آیا جو محبت اور شاعری کے لیے بنا تھا۔ ان کتابوں کو پڑھنے کے بعد پیشہ ورانہ شاعری اور اصیل شاعری کا فرق ٹھیک سے سمجھ آتا ہے۔ محمد سلیم الرحمٰن نے اپنے دوست ناصر کاظمی کو ان لفظوں میں سپاس نامہ پیش کیا ہے:

عمر کی فصل پک گئی ، زردیِ رُخ سے ہے عیاں
خواب میں دیکھتا ہوں میں چلتی ہوئی در انتیاں
سحرِ بہار میں مگن ، زاد سفر سے بے نیاز
بھول چکے قفس کے رنج اور نشاطِ آشیاں
ماہ رُخوں کو کیا خبر ، عرضِ ہُنر ہے جوئے خوں
حرف غلط ہے اِن دنوں کوہ کنوں کی داستاں
گرد و غبار اوڑھ کر ہو گئے خاکِ رہ گزر
ناصر کے سر پہ پھر بھی تھا دھوپ کا کوئی سائباں
مطلع میں عمر کے غروب کا منظر تو بہت سے شاعروں نے بیان کیا ہوگا۔ حوصلے کا کام ہے۔ اس مطلع کی وحشت بتا رہی ہے کہ اس شاعر کی زندگی کس کرب میں گزری۔ محمد سلیم الرحمٰن اپنے شعر میں وجہ اور سبب بڑا مضبوطی سے باندھتے ہیں۔ فصل اپنی پکائی پر زرد ہو جاتی ہے۔ فطرت کا قاعدہ ہے۔ اس کے بعد اس پر درانتی بھی چلتی ہے۔ یہ بھی دستور ہے۔ تلازمے میں فصل کے ساتھ عمر کو رکھ پر وابستگی میں کتنا دُکھ بھر دیا ہے۔ درانتی کا دُکھ فصل ہی جانتی ہے۔ اس جگہ خواب میں درانتیاں چلنے کا منظر ہے۔ یہ ایک بار کے لیے نہیں۔ جب تک زندگی ہے تب تک خواب ہیں اور جب تک خواب ہیں تب تک درانتیاں۔ ایک شعر میں واردات کو مکمل کرنا کیا ہوتا ہے اور پھر اس میں ایک اسرار کا التزام رکھنا اسی قبیل کے اشعار کو پڑھ کر ہوتا ہے۔
سحر بہار میں مگن ، زاد سفر سے بے نیاز
بھول چکے قفس کے رنج اور نشاط آشیاں
اس شعر میں شاعر کی زندگی، ناصر کاظمی کی زندگی کا پورا وظیفہ در آیا ہے۔ جو لوگ کسی بھی دُھن میں مگن ہوتے ہیں۔ ان کے لیے زاد سفر بے معنی چیز ہوتی ہے۔ سحرِ بہار میں راستے کی تکلیفوں کو تج کر دنیاوی مصائب و آلام اور آسائشات کو بھول کر چلتے رہتے ہیں۔ گھاس کے ہرے سمندروں میں کاگے کی آواز، چڑیوں کا بولنا، پیلے پھولوں کی رُت کو دیکھنا، چاندنی کی تھکی ہوئی آواز کو سننا اُن کے شوق نرالے ہوتے ہیں جن کی حیثیت ہر چیز کو مادی ترازو میں تولنے والوں کے لیے تو بھلے نہ ہو لیکن شاعر کے لیے وہی اس کی دنیا ہوتی ہے اور اسی میں وہ عافیت محسوس کرتا ہے۔
ماہ رخوں کو کیا خبر ، عرض ہُنر ہے جُوئے خوں
حرف غلط ہے ان دنوں کوہ کنوں کی داستاں
ماہ رُخ جن کو اشعار میں خراج تحسین پیش کرتے کرتے ہنرور ماضی کی داستانیں بن گئے بالکل بھی نہیں جانتے کہ ایک ایک شعر تراشتے کیا کیا جوکھم جھیلے۔ ماہ رخوں کی ادائیں شاعر کے لیے کتنی بجلیاں لاتی ہیں یہ محبت کرنے والا ہی جانتا ہے۔ ماہ رُخوں کے ستم کیسے جگر چھلنی کرتے ہیں اس کا بیان کتنی پرتوں میں ڈھل کر کاغذ کا حصہ بنا ہے۔ جوئے خوں نکالنے کے مترادف ہے یہ سب کچھ مگر اس کا صلہ کچھ بھی نہیں۔ حرف غلط کی طرح بھلا دیا جاتا ہے۔ کوہ کن فرہاد ہو یا کوئی اور اکیسویں صدی زر کی چمک میں ان قصوں کو ماضی کا قصہ سمجھ کر بھلا چکی ہے۔ وہ زر کی بات کرتی ہے اور ہنر کو بے مول متاع جانتی ہے۔ اسے خبر نہیں کہ اس بے مول متاع کے حصول کے لیے کوئی کتنا رُلا ہے۔ شہر شہر، قریہ قریہ اپنے خوابوں کی کرچیوں کو جوڑتا پھرا ہے تب جا کر تصویر کی کوئی نکڑ بنی ہے۔ وہ کونا جس تصویر میں کسی کا محبوب مسکرا رہا ہو۔ غرض ہنر بلاشبہ کوہ کنی ہی تو ہے۔
گرد و غبار اوڑھ کر ہو گئے خاک رہ گزر
ناصر کے سر پہ پھر بھی تھا دھوپ کا کوئی سائباں
اس مقطع میں ناصر کے ایک شعر کے ایک مصرعے میں تحریف کی گئی ہے۔
خمارِ غریبی میں بے غم گزرتی ہے ناصر
درختوں سے بڑھ کر مجھے دھوپ کا سائباں ہے
شاعر کایہ دوست اسے انیس سو بہتر میں چھوڑ گیا۔ اس کےبعد جو گزری وہ آپ کے سامنے ہے۔ ایک وقت جب دوست کے ساتھ گاہ گاہ ملنا اور ایک یہ وقت کہ وہ مومن پورہ کے قبرستان میں ہے اور انتظار حسین، منیر نیازی، محمد سلیم الرحمٰن، احمد مشتاق، ریاض احمد، سہیل احمد خاں اور دوسرے کئی احباب لاہور کی گلیوں میں سالوں اسے ڈھونڈتے پھرے۔ انتظار حسین، منیر نیازی، سہیل احمد خاں تو دوست کے پاس چلے گئے۔ ان کے زندہ دوستوں کو اللہ سلامت رکھے۔ ان کی آنکھوں اور باتوں میں ناصر بولتا اور چلتا پھرتا نظر آتا ہے۔ مقطع میں اپنی تنہائی بے بسی، بے کلی کو بیان کیا ہے اور اس میں ناصر کی یاد ناصر کے وقت میں تو درخت تھے جسے رائیونڈ کے جمہوری حکمرانوں نے چن چن کر کٹوا دیا۔ اب وہ لاہور نہیں۔ اب خاک ہے اور درد مندوں کا سینہ چاک ہے۔



