محمد سلیم الرحمٰن کی پنجابی نظم

“نظمیں” نظموں کی کتاب ہے۔ اس میں چند غزلیں بھی موجود ہیں۔ غزلیں شاعر کے دوستوں کی یاد میں ہیں۔ “نظمیں” پڑھتے ہوئے دھیان میں ایک جگہ ٹھہراؤ کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ نظریں ایک دم پنجابی نظموں پر رُکتی ہیں (اگرچہ ان کی تعداد تین ہے) محمد سلیم الرحمٰن اور پنجابی نظم۔ ذہن میں کروٹ سی محسوس ہوتی ہے۔ علی گڑھ کا پنجاب سے محبت کا پتا چلتا ہے۔ پنجاب کا شہر لاہور جس کے نام شاعر نے زندگی کر دی۔

عمراں لنگھ گئیاں، پئے آن اسی بھُلیکھے وچ؛

کجھ لکھیا ہویا اے، پڑھیا ککھ نئیں جاوندا۔

خورے کیہہ لکھیا اے ایتھے ساڈے لیکھے وچ۔

لکھت ہور کسے دی، اکھیاں ساڈیاں کھوٹیاں۔

جھولی چُکّن آلے ہور کیہہ منگن؟ لاون تے روٹیاں

تیجی گَل کرن دا اوہناں نوں وَل نئیں آوندا۔

نظم کے چہرے سے احساس زیاں ظاہر ہے۔ ایک حزنیہ رو سطر سطر سے اپنا پتا دے رہی ہے۔ عمر گزر گئی۔ کیسے گزری۔ اس کا تعلق ایک نوشتے کے ساتھ ہے۔ یہ نوشتہ تقدیر کے سوا بھلا کیا ہو سکتا ہے۔ اس لکھت نے تاعمر شاعر کو بھول میں ڈالے رکھا۔ شاعر نے یہاں اسی کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یعنی وہ ذات سے ورا اجتماعی احساس کی نمایندگی کر رہا ہے۔ اولاد آدم کی بپتا سنا رہا ہے۔ عجب کہانی ہے۔ زندگی ایک لکھت کے تابع ہے اور وہ لکھت پڑھی نہیں جاتی۔ ہونے کا جُوا ہے۔ جُوا جو آج تک کسی کا نہیں ہوا۔ تیسری سطر استفہامیہ ہے۔ پتا نہیں ہمارے نصیب میں لکھنے والے نے کیا لکھا ہے۔ دُکھ ہے یا سُکھ۔ فراخی ہے یا تنگی۔ ہجر ہے یا وصال۔ زندگی ہے یا موت۔ یہ اور اس طرح کے بے شمار وسوسے اندر ہی اندر من میں کچوکے لگائے رکھتے ہیں۔  پتا نہیں کس اکسیری اشارے کا انتظار رہتا ہے جس میں مشکل کا حل ہے۔ جس میں غم کو خوشی سے دھونے کا آب حیات ہے۔ ایک تلاش ہے جس نے انسان کو حیرت میں ڈال رکھا ہے اور انسان نے اپنی ذات کو اس نہ پڑھے جانے والے اشارے کے سپرد کر رکھا ہے۔ چوتھی سطر میں لیکھکھ کی جستجو اور اپنی بے بسی کا اظہار ہے۔ خیال جبر کے نظریے کی طرف چلا جاتا ہے۔ زندگیاں ہماری اور زندگی نامہ ہمارا نہیں۔ ہماری آنکھوں میں وہ تاب نہیں کہ ہم پڑھ سکیں۔ ہمارے بارے میں کیا لکھا ہوا ہے۔ اچھا ہے، بُرا ہے، کیسا ہے۔ بس جھیلنا ہے۔ قبول کرنا ہے۔ چاہنے اور نہ چاہنے کا دخل نام کو نہیں۔ ایک پتنگ جس کی چرخی اپرمپار اُفق میں بسنے والے لجپال کی دسترس میں ہے۔ سارے راز اس کے پاس ہیں۔ ہمارے پاس اگر کوئی انتخاب کرنے کے لیے جذبہ موجود ہے تو وہ تسلیم کا جذبہ ہے۔ مانے سوا چارہ نہیں۔ ہماری زندگیوں کی حقیقت ایک بندھن سے زیادہ نہیں۔ کسی نے روکا تو رُک گئے۔ چلایا تو چل پڑے۔ کہیں نعمتوں کی فراوانی ہے اور کہیں بھوک کی حکمرانی۔ بھوک جو تہذیب پر انمٹ دھبا بن چکی ہے۔

پانچویں اور چھٹی سطر میں آدمؑ کی اولاد کا ازلی ابدی روگ بیان کیا گیا ہے۔ ہماری حیثیت دامن پھیلانے والوں کی سی ہے۔ ہم نے جھولی پھیلائی ہوئی ہے۔ ہماری جھولی ایک کربناک طلب کے خوان کا راستہ دیکھ رہی ہے۔ ہم بے چارے دو چیزوں کے لیے تیسری چیز کو سوچتے بھی نہیں۔ وہ چیز کیا ہے۔ سالن اور روٹیاں ہماری ساری جدوجہد کا حاصل یہی ناختم ہونے والی طلب کا سوال ہے۔ ہم اس طلب کی تسکین میں زندگیاں گزار دیتے ہیں۔ اس تلاش کے سامنے باقی سب کچھ ہیچ ہے۔ ادب، فلسفہ، نفسیات سب کچھ اضافی ہو جانا ہے۔ تقدیر کے قیدیوں کے پتا نہیں کب دن پھریں گے۔ وہ کب مادے کے حصار سے نکلیں گے۔ کب رنگوں، روشنیوں سے اپنے ویران دلوں کو آباد کریں گے۔ کوئی نہیں جانتا۔ حد ہو گئی۔ چھ ارب سے زیادہ آبادی والی دنیا میں یہ دو سوال کتنے مشترک ہیں۔ روٹی اور سالن۔ دین، دھرم، عقیدے، مسندیں، منبر اس مرکز کے گرد طواف کر رہے ہیں۔ کسی کو بھی اس سے مفر نہیں کل سے آج تک اور آج سے کل تک انھیں ان دو سوالوں کا سامنا رہے گا۔ یہ نظم 2013ء میں لکھی گئی۔ اس وقت شاعر زندگی کے اُناسی سال گزار چکا تھا۔ اس سے احساس میں سچ کا پتا چلتا ہے۔ خبر ملتی ہے کہ بھوک کا کرب آرائشی نعرہ نہیں۔ شاعر نے اس جذبے کی تلخی کو جھیلتے دیکھا ہے۔ اس نے شاعر کے اسلوب میں توازن اور متانت بھر دی ہے۔ نظم کی سطریں آپس میں پیوست ہیں۔ زندگیاں جو گزر گئیں ان کا احوال ہے۔ تقدیر کے سامنے آدمی کی بے بسی اور پیٹ کی آگ سے بڑا کوئی روگ نہیں۔ کاش کوئی اس طرح کی سطروں کو پڑھےاور ہاتھوں میں روٹیاں اور پانی لے کر بھوکوں اور پیاسوں کی تلاش میں نکل جائے۔ اس سے شاید تقدیر کے غم کم ہو جائیں۔ خدا نے انسان کو مجبور کے ساتھ مختار بھی تو بنایا ہے۔ وہ خودی کے خمار کو تج کر بے بسوں کو تلاش کرے۔ میرا گمان تھا کہ  نظمیں روشنی کی کرنیں ہوتی ہیں۔ اس نظم نے میرے گمان کو یقین میں بدلا ہے اور یقین بے شبہ انسان کا بڑا شرف ہوتا ہے۔ اندھیرے میں روشنی کا زینہ۔