محمد سلیم الرحمٰن کی غزل خورشید رضوی کے لیے

خورشید رضوی سے کون واقف نہیں۔ ہر کوئی جانتا ہے۔ وجہ۔ وجہ یہ کہ انھوں نے کبھی اپنی واقفیت کرانے کے لیے خود کو پیش نہیں کیا۔ اپنے آپ سے رابطہ رکھا۔ اپنی تنہائی کی حفاظت کی۔ اپنے آپ سے مکالمہ کیا۔ اور ذات کی سان پر تپا کر خود کو خود جیسا کر لیا۔ آوازوں کے شور میں خاموشی کی مہین چادر اوڑھ لی۔ جُبوں، قُبوں اور دستاروں کے بازار میں خرقہ پوشی کو شعار کیا۔ شاعری، کلاسیکی متون، عربی ادب کی تاریخ، تنقید، بچوں کے ادب اور تدریس میں خود کو گم رکھا۔ اس لگن نے ان کو اتنا سنہرا کر دیا ہے کہ اب کسی عارضی وسیلے کی، کسی کُرسی کی، کسی دستار کی ضرورت رہی نہیں۔ اُن کی تنہائی محفل میں بدل گئی ہے جو اشعار کی صورت کئی درد نصیبوں کا آسرا ہے۔ آوازوں کی دنیا میں اُن کا شعر پناہ کا درجہ اختیار کر چکا ہے۔ ایک سکون جس پر عطا کا پہرہ ہو۔ کبھی خیال آتا ہے کہ خدا کے سنبھالے ہوئے لوگ کیسے ہوتے ہیں تو دھیان از خورشید نو بہار کی طرف چلا جاتا ہے۔ محمد سلیم الرحمٰن کی “نظمیں” میں ایک غزل خورشید رضوی کے لیے بھی ہے:

پہنے تھے گو فریب نے سو رنگ کے لباس

بدلی نہ جا سکی قد و قامت کی وہ اساس

شیر و شکر معانی سے لفظوں کا اختلاط

یہ قافیوں کا لمس ، ردیفوں کا وہ مساس

بے منزلِ مراد سفر خود کو گم کیے

تنہا مسافتیں ہوں جہاں سر بسر سپاس

خورشید نو بہار میں کیا کیا تھیں رونقیں

دل میں کوئی کسک تھی جو کرتی رہی نراس

اس غزل کا مطلع شخصیت کے مزاج کو متعین کر رہا ہے۔ پتا چل رہا ہے کہ شعبدہ باز دنیا میں کسی اصیل روح کا ذکر ہے۔ فریب جتنے مرضی سوانگ رچا لے اصیل کی جگہ نہیں لے سکتا۔ قد و قامت جو ہاتف عطا کر دے اُسے کوئی چھین نہیں سکتا۔ اپنے ناموں سے کھیلنے والے نوجوان اناڑیوں کو یہ خبر ہی نہیں کہ چار دن کی چاندنی پر ابدی سکون کو فدا کرنا دانائی نہیں۔ کوئی جتنا مرضی خود سے بے خود ہو لے اگر خدائے زندہ نے اُسے زندہ نہیں بنایا یعنی اُس میں ہنر کا بیج نہیں رکھا تو فریب کے سو رنگ لباس پہننے کا کچھ فائدہ نہیں۔ قد و قامت کو کاٹ کر اپنے برابر نہیں کیا جا سکتا۔ فطرت کی حنا بندی وقتی آرائش سے دیرپا ہوتی ہے۔ عزت اور ذلت کے فیصلے اس دنیا سے کہیں اُس طرف ہوتے ہیں۔ اُس کی دی ہوئی عزت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ فنا نہیں۔ زوال نہیں۔ حرماں نصیبی اس کا مقدر نہیں۔

شیر و شکر معانی سے لفظوں کا اختلاط

یہ قافیوں کا لمس ، ردیفوں کا وہ مساس

اس جگہ خورشید رضوی کے شاعرانہ عمل کو دکھایا گیا ہے۔ لفظوں میں معانی ایسے ہوتے ہیں جیسے دودھ میں شکر۔ ایسا نہیں کہ لفظ اور معانی دست و گریباں ہوں۔ جس طرح دودھ میں ایک دفعہ شکر مل جائے تو الگ نہیں کی جا سکتی اسی طرح سلیقے سے لفظ اور معنی کا اختلاط ہو جائے تو دوئی ختم ہو جاتی ہے۔ قافیہ اور ردیف ایسے نہیں لایا جاتا کہ قافیہ برائے قافیہ اور ردیف برائے ردیف۔ اس امانت کو، جو تخلیق کی صورت خدا نے عطا کی ہے، سینچا جاتا ہے۔ پکایا جاتا ہے۔ قافیے ردیف کی جگہیں دیر تک من میں بسا لی جاتی ہیں۔ بدل بدل کر دیکھا جاتا ہے۔ اس کے لمس کو مشامِ جاں میں سمایا جاتا ہے۔ ردیف کے مساس سے ہنر کی آبیاری کی جاتی ہے۔ تب جا کر فصل پکتی ہے۔ ایسی فصل جس کی بالیوں میں زر ہوتا ہے۔ ایسی کھیتی جو انسان کو آیہ کائنات کا معنی دیریاب بناتی ہے۔

بے منزل مراد سفر خود کو گم کیے

تنہا مسافتیں ہوں جہاں سر بسر سپاس

جن مسافروں کو سفر سے عشق ہوتا ہے ان کے نزدیک منزل اتنے معانی نہیں رکھتی۔ وہ بس چلتے رہتے ہیں۔ ان کی وفاداری راستے سے زیادہ ہوتی ہے۔ شاعر کا سفر منزل کا سفر نہیں ہوتا۔ وہ کہیں راستے کی دھول بھی بن جائے تو آنکھ کا سرما سمجھتا ہے۔ خورشید رضوی کا شعری سفر اُس انسان کا شعری سفر ہے جس کے مقدر میں مسافت لکھ دی گئی ہے۔ ایسی مسافت جسے احسان سمجھ کر اپنا لیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بے زاری نہیں آتی۔ مسافر کا مسافت سے جی لگا رہتا ہے۔ تھک کر بیٹھنے نہیں دیتی۔ جب منزل کا تصور ذہن میں ہو اور وہ نہ ملے تو کئی مسافر اکتا جاتے ہیں۔ خورشید رضوی خیال کا مسافر ہے اور خیال سے بڑی اور کوئی طاقت نہیں۔ دھیان اس میں راستہ ہوتا ہے۔ صبر اس کی ڈھارس ہوتی ہے۔ شکر اس کا شعار ہوتا ہے۔ اس شعر میں معنوی سطح پر خورشید رضوی کے کلام کو محسوس  کیا گیا ہے۔ احساس کا یہ سفر شاعر کی شعری اقلیم میں داخل ہونے کا بڑا وسیلہ ہے۔ خورشید رضوی کی زندگی سرابوں میں صدف تلاش کرتے گزری ہے۔ وہ امکان کے مسافر ہیں اور امکان کے مسافروں کو رائگانی کا احساس نہیں ہوتا۔ یہی سبب ہے کہ یہ سفر رُکا نہیں، جاری ہے۔ اُمید کی طرح۔

خورشید نوبہار میں کیا کیا تھیں رونقیں

دل میں کوئی کسک تھی جو کرتی رہی نراس

تخاطب میں اپنائیت اور خراج دیکھیں۔ خورشید رضوی کے لیے خورشید نوبہار کی ترکیب بہار کے سورج کی طرح تسلی دے رہی ہے۔ دل خوشی سے بھرا جا رہا ہے۔ دل میں رونق اور میلے کا سماں ہے۔ ساتھ ہی ایک چبھن، ایک پھانس جو کبھی کبھی ناامید بھی کرتی ہے کہ ایسے لوگوں کے نصیب میں اتنا اکلاپا۔ آخر کیوں۔ ایسی چپ۔ بیٹھے غم سے خوشی اور خوشی سے غم کو دھوتے رہنا۔ اگرچہ اس یاس پر صاحب یاس کو کوئی تاسف نہیں مگر پھر بھی کبھی کبھی دُکھ کی ٹیس سی محسوس ہوتی ہے۔ جیسے اندر کوئی چیز ٹوٹ گئی ہو۔ اس شاعر نے خود سے مکالمہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی تالیفات ساری اطراف سے متوکل نظر آتی ہیں۔ اس صابر انسان پر محمد سلیم الرحمٰن کی یہ غزل آواز پر خاموشی کی فتح کا گیت ہے جس میں بے سہاروں اور اکیلے لوگوں کی بہت جگہ ہے۔

٭٭٭