نیدر دے سومیاں دے اوہلے، کیویں دسیے، کیہڑی رُت اے۔
کیہ اوتھے چپ چاپ کھلوتے ، سُتیاں پتّیاں آلے رُکھ نیں؟
وچھڑے ہوئے جنے سنگی نیں سب دیاں واجاں سُن سکدے آں؟
اوتھے اَپّڑ کے گِن سکدے آں کنّے سارے گواچے سُکھ نیں؟
2013
نظم کی فضا اس بات کا پتا بتا رہی ہے کہ اس نظم میں خواب کا بیان ہے۔ سہانے خواب جو خدا کی طرف سے ایک انعام سے کم نہیں۔ خواب جو کسی بھی طرز کے جبر سے کچھ لمحوں کے لیے انسان کو نکال کر آسودگی کا سامان پیدا کر دیتے ہیں۔ خواب جو ہمیں وقت کی اور مکان کی قید سے رہا کر دینے کے بعد من چاہی دنیاؤں میں لے جاتے ہیں۔ خواب جو خوش بھی کرتے ہیں اور اداس بھی۔ جن پر کسی بھی طرح کا جارحانہ رویہ اثرانداز نہیں ہو سکتا۔ جو دہشت کے سامنے کچھ وقت کے لیے مہذب انتقام کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ پہلی سطر میں نیند کا ماجرا ہے۔ ” نیدر دے سومیاں دے اوہلے، کیویں دسیے، کیہڑی رُت اے” یہاں سومیاں کا لفظ بڑا معنی خیز ہے۔ اس کا تعلق کاشت کاری کے ساتھ ہے۔ جب بڑی نہر سے پانی کی ترسیل کے لیے چھوٹی نہر نکالی جاتی ہے تو دونوں جگہوں پر راجباہ کے کناروں میں سے کہیں کہیں سے پانی رِستا رہتا ہے۔ پانی کا رِسنا ایک خاموش عمل ہوتا ہے۔ سطح پر سکوت مگر کہیں تہہ میں نقب۔ کنارے پر کھڑے ہو کر لگے گا کہ کنارہ بالکل مضبوطی سے بندھا ہوا ہے مگر ساتھ ہی کھیت میں پانی کی موجودگی کچھ اور بتا رہی ہوتی ہے۔ حالانکہ دُور تک باقی کھیت خشک ہوتا ہے جب کہ کناروں کے ساتھ پانی کی موجودگی کنارے میں موجود سومے کا پتا دیتی نظر آتی ہے۔ اس عمل کا اطلاق نیند پر کرتے ہیں۔ جب ایک انسان سو رہا ہوتا ہے تو ہمارا پہلا گمان بے خبری کا ہوتا ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ یہ دنیا سے بے خبر ہے۔ اس بہ ظاہر بے خبری کی کیفیت میں ایک ایسی چیز اس کی زندگی میں داخل ہوتی ہے جس کی مدد سے وہ ہفت اقلیم کی سیر کر رہا ہوتا ہے۔ جی وہ طاقت خواب ہے۔ شاعر کو خواب میں ایسی کیفیت کا سامنا ہے جس میں درخت ہیں ایسے درخت جن کے پتے نیند کی آغوش میں ہیں۔ خاموش، موسموں کے رحم و کرم پر۔ آروں کا استقبال کرتے ہوئے۔ ہمیشہ سے سائبان بن کر میزبانی کرتے ہوئے۔ بہ ہر حال ایک خاموش منظر ہے جس نے شاعر کے خیال کو روکا ہوا ہے اور وہ متحیر اور متجسس اس خواب میں کچھ تلاش کر رہا ہے۔ اس تلاش میں بڑا حُسن اور بڑی کوملتا ہے۔ یہ کسی مادی تقاضے کی تکمیل کی تلاش نہیں بلکہ تیسری سطر رفتگاں کی بازیافت کا پتا دے رہی ہے۔ شاعر اپنے بچھڑے ہوئے رفیقوں کی آوازیں سن رہا ہے۔ رفیق جن سے زندگی تھی۔ جن سے دُکھ سکھ کی سنگت تھی۔ جن کی آواز خوشی کے گیت کا درجہ رکھتی تھی۔ جو جدا ہو گئے مگر اک خواب نے انھیں ایک جگہ لا کھڑا کیا۔ یہ خواب اگرچہ حُزنیہ آہنگ کا حامل ہے مگر اس حُزن میں نشاط کی مدھم لے موجود ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ہم شاعر کے ہم خواب بن کر اسرار کی اس کائنات کی سیر کر رہے ہیں اور اپنے اپنے بچھڑے ہوئے لوگوں کی اپنی ذات میں موجودگی کے سکون سے سرفراز ہیں۔ انسان کو جاننے کے جہاں اور کئی وسیلے ہیں وہیں ایک آسرا اس کی یادیں ہیں۔ خواب دیکھنے پر اجارہ یا خواب دیکھنے کا انتخاب خدا نے انسان کو نہیں دیا۔ بس لاشعور اور تحت الشعور کی مرضی ہے جو چاہے دکھا دے۔ محمد سلیم الرحمٰن کے حق میں اچھا ہوا۔ اس کا سامنا دوستوں کی آوازوں سے ہیں۔ کہیں ناصر کاظمی، منیرنیازی، صلاح الدین محمود، شیخ صلاح الدین، حنیف رامے، سلطان محمود آشفتہ، شاہد حمید، سہیل احمد خاں، محمود گیلانی خواب کے جھروکے سے شاعر کی نیند میں بیداری کا رس گھول رہے ہیں۔ وہ ان کی آوازیں سُن رہا ہے۔ آخری سطر میں شاعر نے سُکھ کی جگہ بھی بتا دی ہے۔ وہ اُس جگہ کو، جس میں وہ دوستوں اور اپنے لوگوں کی آوازیں سُن سکتا ہے۔ پُرسکون جگہ قرار دے رہا ہے۔ موجود زندگی میں اُس کا سکھ ایسے جیسے چھن گیا ہو۔ ٹھیک بھی ہے جب صحافی موت کی خبروں کی تلاش میں ہوں، سیاست دان کھانے پینے کی اشیا کی ذخیرہ اندوزی کر رہے ہوں، ڈاکٹر پیشے کی حرمت سے بے خبر ہو کر ہر وقت ہڑتال پر ہوں، استاد کمرہ جماعت کو اپنے اوپر بوجھ سمجھ رہے ہوں وہاں کوئی کیسے سکھی رہ سکتا ہے۔ شاعر کے خواب نے اس پر مہربانی کی ہے اور وہ کچھ مدت کے لیے ہی سہی اپنے ہم دموں کی ہم دمی سے آسودگی کا سامان پیدا کر رہا ہے۔ یہ نظم رفتگاں کے لیے ایک خراج ہے۔ اس خراج میں شاعر کے خواب نے اس کی یاوری کی ہے اور اسے اس دنیا کی مشکلوں سے نکال کر دیارِ حبیب میں آن کھڑا کیا ہے۔ شاعری کا یہی تو اعجاز ہے کہ اس میں بیتا ہوا کل زندہ ہو جاتا ہے اور کھوئے ہوئے اپنے مل جاتے ہیں۔ کون ہوگا جس کے لیے بچھڑے ہوؤں کا ملنا نعمت نہیں ہوگا۔



