پہلے پچکار کے دھیرے سے نکالی دنیا دل نہ مانا تو وہاں اور بسا لی ...
شفیع مشہدی کے ڈراموں کا مجموعہ’دوپہر کے بعد‘ ایک مدت ہوئی، یعنی ۱۹۸۲میں شائع ہوا ...
سرشاریاں بھی کھو گئیں اور بے خودی چلی گئی اس زندگی کا کیا کریں زندہ ...
O لیا ہے خاک میں خود کو مِلا، مِلا نہیں کچھ یہ کارِ زیست عبث ...
O کُچھ اور تو ہم بے ہُنروں سے نہ بن آئی جب زخم لگا، زخم ...
ایک کمرہ، جھاڑ فانوس، میزیں کرسیاں، میز پر کافی کے پیالے، گوشوارے، پنسلیں، اور گفتگو ...
O عافیت کہتی ہے پھر ایک ستمگر کو بلائیں ریگِ ساحل کی طرح اپنے سمندر ...
O نہ کر ستم کی شکایت، اگر زیادہ ہے تُجھی سے ربط بھی اے بے ...
کیا تم جانتے ہو میں کیا تھی ، میں کیسے زندہ رہی ؟ تم جانتے ...
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ادب کا نوبیل انعام دینے والی جو کمیٹی ہے، ...




